نئی دہلی،20؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں سرمایہ کاری کر کے ملک پر 150 سال تک حکمرانی کی، اسی طرح وزیر اعظم نریندر مودی ’ویسٹ انڈیا‘ یعنی گجراتیوں کے ذریعے ملک پر حکمرانی کرنے کے خواہاں ہیں -
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت بیمہ کے شعبہ میں ایف ڈی آئی (غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری) میں اضافہ کرنے کے بہانے اختیارات غیر ملکیوں کے حوالہ کرنا چاہتی ہے اور اس کے ذریعے ملازمتوں میں حاصل ہو رہے ریزرویشن کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے-
انہوں نے ایوان میں وزیر مالیات کے بیان کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں بیمہ کے شعبہ کی صرف چھ سرکاری کمپنیاں ہیں، جس میں 1.75 لاکھ ملازم اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن نجی شعبہ میں کل 50 کمپنیاں ہیں جن میں 2.67 لاکھ ملازم کام کر رہے ہیں -
کھرگے نے کہا کہ آئین نے ملک کی 60 سے 70 فیصد آبادی کیلئے ریزرویشن کے ذریعے ان کی ملازمتوں کی گارنٹی دی تھی، اسے بی جے پی ختم کرنا چاہ رہی ہے-کھرگے نے مزید کہا کہ 1956 میں پنڈت نہرو نے بیمہ کمپنیوں کو قومیا یا تھا اور اندرا جی نے بینکوں کو قومیا لیا تھا، تاکہ لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے اور انہیں ملازمتیں حاصل ہو سکیں -
انہوں نے کہا کہ بیمہ ترمیمی بل 2021 میں کئی خامیاں موجود ہیں - لہٰذا اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئیے- انہوں نے کہا کہ اگر بیمہ میں ایف ڈی آئی بڑھائی جاتی ہے تو مودی جی کے گجرات کے چنندہ لوگوں کی مدد کیلئے ویسٹ انڈیا کمپنی لائی جائے گی- اس لئے بل میں غیر ملکیوں کے مالکانہ حق اور کنٹرول کا التزام کیا گیا ہے-
خیال رہے کہ انشورنس (ترمیمی) بل کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے ممبروں نے مطالبہ کیا کہ اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دیا جائے- حزب اختلاف کا الزام ہے کہ حکومت ملک کا سرمایہ غیر ملکی ہاتھوں میں سونپنے کی کوشش کر رہی ہے-
دوسری طرف حکمراں جماعت نے اسے غریبوں کے مفاد میں اٹھایا جانے والا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو انشورنس تحفظ حاصل ہوگا-